اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان سب نعمتوں میں سب سے قیمتی نعمت **دل** ہے۔ دل صرف ایک جسمانی عضو نہیں بلکہ روحانی مرکز بھی ہے، جو انسان کے احساسات، نیتوں، محبتوں اور عقیدتوں کا گہوارہ ہے۔ قرآن و سنت میں "قلب" یعنی دل کو خاص اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ دل ہی وہ جگہ ہے جہاں ایمان اترتا ہے، جہاں تقویٰ بسیرا کرتا ہے، اور جہاں اللہ کی محبت راسخ ہوتی ہے۔
اللہ کے لیے دل مختص کیوں؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ، إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ*
(سورۃ الشعراء: 88-89)
ترجمہ: "جس دن نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد، مگر وہی شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے۔"
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ دل وہ چیز ہے جو اللہ کے دربار میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ دنیا کی ہر چیز ختم ہو جائے گی، مگر دل اگر اللہ کی رضا سے روشن ہوگا تو وہی نجات کا ذریعہ بنے گا۔
لیکن ہم نے دل کس کو دے دیا؟
افسوس کا مقام ہے کہ جس دل کو اللہ کی محبت، اس کے ذکر، اس کی یاد، اس کے دین اور اس کے نبی ﷺ کی اطاعت کے لیے وقف کرنا تھا، ہم نے وہ دل کسی غیر کے عشق میں گم کر دیا۔
کبھی وہ دل کسی انسان کی ظاہری خوبصورتی پر فریفتہ ہو گیا،
کبھی دنیا کے مال و دولت کی محبت میں کھو گیا،
کبھی شہرت، ناموری اور طاقت کی طلب میں لگ گیا،
اور کبھی کسی رشتے، کسی تعلق یا کسی خواہش کے پیچھے گم ہو گیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جس دل میں صرف اللہ کی عظمت ہونی چاہیے تھی، وہ غیر اللہ سے لبریز ہو گیا۔
غیر اللہ کی محبت کا انجام
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ
(سورۃ البقرہ: 165)
ترجمہ: "اور کچھ لوگ اللہ کے سوا ایسے معبود بنا لیتے ہیں جن سے ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے کرنی چاہیے، اور ایمان والے تو اللہ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔"
غور کیجیے! یہاں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اللہ کی محبت سب سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔ اگر کوئی محبت اللہ کی محبت پر غالب آ جائے تو وہ شرک کی ایک قسم بن سکتی ہے — شرکِ محبت۔
دل کا اصل مقام کیا ہے
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ"
(صحیح بخاری و مسلم)
ترجمہ: "خبردار! جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار! وہ دل ہے۔"
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دل کی اصلاح سب کچھ ہے۔ اگر دل اللہ کی محبت سے جڑ جائے تو زندگی سنور جاتی ہے، ورنہ خواہشات کی غلامی میں انسان ذلیل ہو جاتا ہے۔
دنیوی محبتیں اور اللہ کی محبت میں فرق
انسانی محبت میں نقصان، درد، فریب اور دھوکہ ہے، جب کہ اللہ کی محبت میں سکون، اطمینان، دائمی خوشی اور کامیابی ہے
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
(سورۃ الرعد: 28)
ترجمہ: "خبردار! دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔"
کسی انسان کی محبت انسان کو کمزور کر سکتی ہے، مگر اللہ کی محبت انسان کو طاقتور، صابر اور کامیاب بناتی ہے۔
دل کو واپس اللہ کی طرف لوٹائیں
اگر آج ہمارا دل دنیا میں، لوگوں میں، جھوٹی امیدوں میں یا ناپائیدار تعلقات میں کھو چکا ہے، تو ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے، رجوع کا راستہ روشن ہے۔
اللہ کی طرف پلٹنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا۔
"قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ"
(سورۃ الزمر: 53)
ترجمہ: "کہہ دو: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔"
ہمیں اپنے دل سے سوال کرنا چاہیے:
وہ دل جو اللہ کے ذکر سے غافل ہے، وہ دل آخر کس کے لیے دھڑک رہا ہے؟
کیا وہ محبتیں، جن کے لیے ہم نے اللہ کو بھلا دیا، ہمیں کبھی سکون دے پائیں گی؟
جو دل اللہ کو دینا تھا، وہ اگر کسی فانی، کمزور اور خود محتاج انسان کو دے دیا، تو کل قیامت کے دن ہم اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟
آج ہی اپنے دل کو اللہ کے حوالے کریں، اس میں اللہ کی محبت بسائیں، اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
O Allah, the Most Merciful, the Most Forgiving O Allah, forgive all those who have passed away, Forgive all those who are living, Forgive the believers—men and women—young and old, Those we know and those we do not know. O Allah, shower Your Rehmat upon the hearts that are hurting, Upon the souls that are lost, Upon the homes that are broken, And upon the nations that are suffering. Ya Allah, guide us all to Your light, Unite us in goodness, And do not leave any of us without Your mercy and pardon on the Day we return to You. Ameen, Ya Rabb al-‘Alameen.