اصلی عزت دین پر چلنے میں ہے، دنیا کی عزت عارضی ہے لیکن اللہ کے دین پر استقامت دائمی عزت کا ذریعہ ہے۔
یقیناً! ذیل میں ایک طویل اور جامع اردو مضمون پیش کیا جا رہا ہے جس کا عنوان ہے
"اصلی عزت دین پر چلنے میں ہے"
اس مضمون میں اسلامی نقطۂ نظر، سیرتِ نبویؐ، صحابہ کرام کی مثالیں، اور موجودہ دور کے تقابلی حالات شامل کیے گئے ہیں:
اصلی عزت دین پر چلنے میں ہے
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر انسان عزت چاہتا ہے۔ کوئی امیری سے عزت تلاش کرتا ہے، کوئی شہرت سے، کوئی طاقت سے، تو کوئی علم و فن سے۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو ان تمام ظاہری ذرائع کے باوجود حقیقی اور دائمی عزت صرف اسی کو حاصل ہوئی جس نے اپنے رب کے دین پر خلوص سے عمل کیا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا"
(سورۃ فاطر: 10)
ترجمہ: جو عزت چاہتا ہے تو تمام عزت اللہ ہی کے لیے ہے۔
یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ عزت کا اصل منبع اللہ ہے، اور وہ عزت انہی کو دیتا ہے جو اس کے دین پر ثابت قدم ہوتے ہیں۔
دین پر چلنے کا مطلب کیا ہے
دین پر چلنا صرف نماز روزے تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کے احکام کے مطابق عمل کرنا دین داری ہے۔ چاہے وہ معاملات ہوں، اخلاق ہوں، تجارت ہو، یا معاشرتی تعلقات جب انسان ہر پہلو میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے تو وہ دین پر چل رہا ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت میں عزت کا حقیقی تصور
نبی کریم ﷺ نے مکہ کے جاہل معاشرے میں آنکھ کھولی جہاں مال، نسب اور طاقت کو عزت کا معیار سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"
(مسلم شریف)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں اور مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
آپ ﷺ نے عمل سے ثابت کیا کہ اصلی عزت دینداری میں ہے۔ جب اہلِ مکہ نے آپ کو جھٹلایا، طعنہ دیا، دشمنی کی، تو آپ نے صبر، تقویٰ اور اخلاق کے ذریعے عزت پائی۔ آج دنیا کا ہر غیر مسلم بھی "محمد ﷺ" کے نام کو عزت سے یاد کرتا ہے، کیوں؟ کیونکہ آپ ﷺ نے اللہ کے دین پر عمل کیا۔
صحابہ کرامؓ کی زندگیاں: دینداری کا انعام عزت کی صورت میں
حضرت بلال حبشیؓ، جو ایک غلام تھے، جب دین کی راہ پر آئے تو کفار نے انہیں سخت اذیتیں دیں، لیکن وہ صبر پر قائم رہے اور "اَحدٌ، اَحدٌ" کی صدا بلند کرتے رہے۔ یہی بلالؓ جب اسلام کو غالب دیکھا تو بیت المقدس کی اذان انہی سے دلوائی گئی۔ یہی تو دین کی برکت ہے، جو غلام کو دنیا کی آنکھوں کا ستارہ بنا دیتی ہے۔
حضرت عمرؓ جیسے سخت طبیعت کے انسان نے جب اسلام قبول کیا تو پوری کائنات نے دیکھا کہ وہی عمرؓ خلیفۃ المسلمین بنے، اور آج تک "فاروقِ اعظم" کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔
دین چھوڑ کر عزت پانا؟ ایک فریب
آج کی دنیا میں کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ دین سے ہٹ کر، مغربی طرزِ زندگی اپنانے سے عزت حاصل ہوتی ہے۔ لباس، فیشن، سوشل میڈیا پر شہرت، دنیاوی تعلیم — ان سب کو عزت کا معیار سمجھا جا رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عزت عارضی اور فریبی ہے۔
ایسے لوگوں کے دل میں سکون نہیں ہوتا، نہ رات کو چین کی نیند، نہ دل کا اطمینان۔ قرآن کہتا ہے:
"اَلَا بِذِكْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ"
(سورہ الرعد: 28)
> ترجمہ: خبردار! دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔
1. تقویٰ: اللہ کا خوف دل میں ہو، تو انسان گناہوں سے بچتا ہے۔
2. اخلاص: ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے۔
3. اتباع سنت: نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل کرے۔
4. صبر: دین پر چلتے وقت آنے والی آزمائشوں پر صبر کرے۔
5. اخلاق: دوسروں کے ساتھ حسن سلوک، رحم دلی، انصاف۔
یہ سب وہ صفات ہیں جو انسان کو اللہ کے نزدیک بھی عزت دیتے ہیں اور دنیا میں بھی۔
موجودہ دور میں دیندار لوگوں کی عزت کی مثالیں
آج بھی دنیا میں ایسے کئی علماء، مبلغین، اور دین پر قائم شخصیات ہیں جو نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر عزت پا رہے ہیں۔ ان کی دولت یا طاقت نہیں، بلکہ ان کا تقویٰ اور دین داری انہیں قابلِ احترام بناتی ہے۔
ہمیں اس دھوکے سے نکلنا ہوگا کہ عزت مال یا دنیاوی کامیابی میں ہے۔ عزت، وقار، اور مقام صرف اور صرف اللہ کے دین پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ جو دین پر ثابت قدم رہتا ہے، اللہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں دروازے کھولتا ہے۔
اصلی عزت، اصلی مقام، اور اصلی کامیابی — سب دین میں پوشیدہ ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین پر چلنے کی توفیق دے اور دنیا و آخرت میں باعزت زندگی عطا فرمائے۔
آمین۔
O Allah, the Most Merciful, the Most Forgiving O Allah, forgive all those who have passed away, Forgive all those who are living, Forgive the believers—men and women—young and old, Those we know and those we do not know. O Allah, shower Your Rehmat upon the hearts that are hurting, Upon the souls that are lost, Upon the homes that are broken, And upon the nations that are suffering. Ya Allah, guide us all to Your light, Unite us in goodness, And do not leave any of us without Your mercy and pardon on the Day we return to You. Ameen, Ya Rabb al-‘Alameen.